حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لڈوا مظفر نگر میں ١٤٤٨ھ کے عشرہ محرم کی دوسری مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی نے بیان کیا کہ واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر فکری، اخلاقی اور اصلاحی تحریک ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کے ذریعے امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دیا کہ حق و صداقت، عدل و انصاف اور عزتِ نفس کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دی جا سکتی ہے، مگر ظلم و باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ تحریک حسینی کا بنیادی مقصد انسان کو بیدار کرنا، اسے حق کی حمایت، باطل کی مخالفت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، صبر و استقامت اور رضائے الٰہی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ آج کے دور میں بھی کربلا کا پیغام اتنا ہی زندہ اور مؤثر ہے جتنا چودہ سو سال قبل تھا اور یہی پیغام انسانیت کو ظلمتوں سے نکال کر ہدایت، آزادی اور عزت کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔
مولانا موصوف نے آخر میں زور دیا کہ اگر ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں فکرِ حسینی کو اپنالیں تو ایک عادلانہ، باوقار اور پُرامن معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
18:31 - 2026/06/18









آپ کا تبصرہ